کے الیکٹرک لکھ کر دے کہ اب پلانٹس بند نہیں ہوں گے، چیف جسٹس
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر قائد میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ سے کہا کہ لکھ کر دیا جائے کہ اب پلانٹس بند نہیں ہوں گے۔
سماعت کے دوران کے الیکٹرک کے چیف ڈسٹریبیوشن افسر نے کہا کہ کے الیکڑک بجلی کی پیداواری استعداد میں اضافے کے اقدامات کررہی ہے، اور بہتری کے لیے سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں۔
اس موقع پر عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں، کےالیکٹرک استعداد بڑھا رہی ہے نہ ہی لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی، نیپرا نے کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کیا لیکن اس کے باوجود صورتحال نہیں بدلی۔
کے الیکٹرک کے وکیل نے سماعت کے دوران بتایا کہ بجلی کی طلب 3500 میگا واٹ ہے جبکہ صرف 2950 میگا واٹ مل رہی ہے، شہرمیں 3 کیٹیگریز میں لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔
وکیل نے بتایا کہ علاقے کے لحاظ سے 3، 6 اور ساڑھے 7 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ کنڈا سسٹم نہیں نظام ٹھیک نہ کرنا ہے، بتائیں بوسیدہ نظام کی بہتری کیلئے کیا کیا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک کے الیکٹرک کےعملے کی معاونت نہ ہوبجلی چوری نہیں ہوسکتی، پنجاب میں 4 ارب روپے لگے مگر پانی کی ایک بوند نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مزاج لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ہم یہاں لوگوں کو سہولتیں دینے کے لیے بیٹھے ہیں، کے الیکڑک لکھ کر دے کہ اب پلانٹ بند نہیں ہوں گے، یاد رکھیں اگر اب پلانٹ بند ہوئے تو سخت کارروائی کریں گے، جو بل ادا کررہے ہیں انہیں بھی لوڈشیڈنگ کےعذاب کا سامنا ہے۔
اس موقع پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’جولوگ بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں ان کا کیا قصور ہے؟، نیپرا نے لکھا لیاقت آباد میں 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، اورنگی، کورنگی میں18 ،18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔
علاوہ ازیں عدالت نے کے الیکڑک او حیسکو سے ایک ہفتے میں حلف نامے طلب کرتے ہوئے سماعت 26 جون تک ملتوی کردی۔
کے الیکٹرک کے وکیل نے سماعت کے دوران بتایا کہ بجلی کی طلب 3500 میگا واٹ ہے جبکہ صرف 2950 میگا واٹ مل رہی ہے، شہرمیں 3 کیٹیگریز میں لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔
وکیل نے بتایا کہ علاقے کے لحاظ سے 3، 6 اور ساڑھے 7 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ کنڈا سسٹم نہیں نظام ٹھیک نہ کرنا ہے، بتائیں بوسیدہ نظام کی بہتری کیلئے کیا کیا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک کے الیکٹرک کےعملے کی معاونت نہ ہوبجلی چوری نہیں ہوسکتی، پنجاب میں 4 ارب روپے لگے مگر پانی کی ایک بوند نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مزاج لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ہم یہاں لوگوں کو سہولتیں دینے کے لیے بیٹھے ہیں، کے الیکڑک لکھ کر دے کہ اب پلانٹ بند نہیں ہوں گے، یاد رکھیں اگر اب پلانٹ بند ہوئے تو سخت کارروائی کریں گے، جو بل ادا کررہے ہیں انہیں بھی لوڈشیڈنگ کےعذاب کا سامنا ہے۔
اس موقع پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’جولوگ بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں ان کا کیا قصور ہے؟، نیپرا نے لکھا لیاقت آباد میں 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، اورنگی، کورنگی میں18 ،18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔
علاوہ ازیں عدالت نے کے الیکڑک او حیسکو سے ایک ہفتے میں حلف نامے طلب کرتے ہوئے سماعت 26 جون تک ملتوی کردی۔
No comments:
Post a Comment