سندھ میں نئے صوبے کے معاملے پر فاروق ستار اور خورشید شاہ آمنے سامنے - A.H News1

سندھ میں نئے صوبے کے معاملے پر فاروق ستار اور خورشید شاہ آمنے سامنے

Share This


سندھ میں نئے صوبے کے معاملے پر فاروق ستار اور خورشید شاہ آمنے سامنے

قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سندھ میں نئے صوبے کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے۔
دونوں نے قومی اسمبلی کے فورم پر ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھار تقریریں کیں، فاروق ستار نے وزیراعلیٰ سندھ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تو خورشید شاہ جذباتی ہوگئے۔
فاروق ستار نے اپنے بیان میں کہا کہ لوگوں میں نیا صوبہ بنانے کی سوچ آ رہی ہے، کسی شہری کی سوچ پر قدغن نہیں لگا سکتے، سوچ پرلعنت بھیجنے کے بجائے اپنی پالیسی پر لعنت بھیجیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ چیلنج مت دیں کہ نیا صوبہ نہیں بنا سکتے، ایم کیو ایم نے جنوبی سندھ کا مطالبہ نہیں کیا، وزیراعلیٰ سندھ نے ایک طبقے کے خلاف نفرت انگیز اورتعصب سے بھری بات کی۔
فاروق ستار نے وزیراعلیٰ سندھ سے مہاجروں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کی تقریر کے خلاف قومی اسمبلی سے ایم کیو ایم نے علامتی واک آوٹ بھی کیا۔

پہاڑ سے پتھر ٹوٹے ، تم ٹھوکر بن گئے ہو، خورشید شاہ

فاروق ستار کے خطاب کے جواب میں خورشید شاہ بھی جذباتی ہوگئے اور نام لیے بغیر کہا کہ ’کبھی ادھر، کبھی ادھر بھٹکتے ہو، کبھی ن، کبھی ق، کبھی پی ٹی آئی کے قدموں میں ہوتے ہو، پہاڑ سے پتھر ٹوٹے، تم ٹھوکر بن گئے ہو ، مارتے بھی ہو روتے بھی ہو‘۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ وہ لفظ مہاجر کو نہیں مانتے، کراچی کسی کی جاگیر نہیں، جو سندھ اور پاکستان توڑنے کی بات کرے کیا وہ لعنتی نہیں ہو گا، وزیر اعلیٰ سندھ نے کسی اور تناظر میں بات کی ہو گی۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سندھ کے لوگ کسی کو صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، ایم کیو ایم والے کبھی صوبہ مانگتے ہیں، کبھی معافی مانگتے ہیں۔

الگ صوبے کی بات غیر قانونی نہیں، فیصل سبزواری

وزیراعلیٰ سندھ کے بیان پر ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد گروپ کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ الگ صوبے کی بات غیر قانونی اور غیرآئینی نہیں، جعلی مردم شماری پرعدالت سے رجوع کریں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ پیپلز پارٹی صرف صوبے کو کھائے جارہی ہے، یہ واحد صوبائی حکومت ہے جو اپنی آبادی کم گننے پرخوش ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہری سندھ کی آبادی دیہی آبادی سے زیادہ ہے، دس سال میں پیپلز پارٹی نے کراچی میں ایک گیلن پانی نہیں دیا، زبان کی بنیاد پر بھی تفریق پیپلز پارٹی ہی کررہی ہے۔

No comments:

Post a Comment